Islamic Philosophy
فطرت اور عقل کے مابین تعلق (2)
نظریہ ائتمانیہ یہ طے کرتا ہے کہ ”عالمِ مواثقہ“ (عہدِ ازل) میں ”فطرت“ (فطرتِ سلیمہ کے مفہوم میں) اور ”عقل“ (صریح عقل کے مفہوم میں) کے مابین تعلق محض ”تضمن“ (Inclusion) کا نہیں ہے بلکہ یہ وساطت (توسل) کا رشتہ ہے۔ یعنی ”عقل“ ”فطرت“ کا محض ایک حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے فطرت … Read the rest
فطرت اور عقل کے مابین تعلق(1)
ابنِ تیمیہ کا فکری انہماک ”عقل“ اور ”فطرت“ کے باہمی تعلق کے گرد گھومتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں موضوعات پر اُن کی گفتگو اس قدر باہم دگر پیوست ہے کہ ان کے مابین تعلق کی نوعیت کے بارے میں ان کا بیان ایک خاص قسم کے اضطراب کا شکار معلوم ہوتا ہے۔ اس تعلق کو بیان … Read the rest
نظر: ناقابلِ دید کی دید، قسط دوم
ناقابلِ دید کی دید
ایسی صورت حال جس میں کوئی کسی چیز کو دیکھتا ہے لیکن اسے نظر نہیں آتا ایک عام تجربہ ہو سکتا ہے تاہم، یہ صورت حال کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قرآنی حکایت کے ذریعے اسلام میں ایک مذہبی اہمیت حاصل کر لیتی ہے۔ سورۃ الاعراف میں قرآن پاک موسیٰ علیہ السلام کی … Read the rest
نظر: دیدہ، نادیدہ اور ناقابلِ دید۔ قسط اول
معنویاتی وسعت
دیکھنا اور دیکھا جانا ایسے پیچیدہ عمل ہیں جو ذاتی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی نتائج کے حامل ہیں۔ عربی زبان میں انسانی ادراکی تجربے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی اصطلاحوں اور تصورات کی کثرت ہے جن میں نظر، بصر، رویت،رویا([1])، طرف، لحظ([2])، مشاہدہ، کشف اور تجلی وغیرہ … Read the rest
ترتیبِ علوم اور مبادیِ اولیٰ: جدید فکری انتشار کا مابعد الطبیعیاتی رد
اس مقالے کا مقصد علم کی ترتیب اور اس کے اصولوں کے مابین تعلق اور اس ترتیب کے جواز کا جائزہ لینا ہے۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ اس علمی ڈھانچے کے ایک پہلو کو جیسا کہ اسے بو علی سینا اور مابعد از سینا فکر میں بیان کیا گیا ہے یعنی اصولِ عدمِ تناقض بطور اصولِ اولیں، لیا جائے … Read the rest
سرّ اور معنی کی مابعدالطبیعیات
صوفیانہ علمیت میں اصطلاحات محض الفاظ کا کھیل نہیں ہوتیں بلکہ وہ وجود کے ان گہرے منطقوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں عام انسانی عقل کے پر جلتے ہیں۔ ’سرّ‘ کے صوفیانہ مفہوم تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ’سر‘ اور ’معنی‘ کے درمیان ایک واضح وجودی اور لغوی فرق قائم کیا جائے۔ اگرچہ بظاہر یہ دونوں … Read the rest
الفارابی کی ’کتاب الحروف‘
اسلامی فلسفیانہ روایت میں ابو نصر الفارابی کو ”معلمِ ثانی“ کا درجہ حاصل ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان کی بہت سی اہم ترین تحریریں صدیوں تک ہماری نظروں سے اوجھل رہیں یا پھر ان کے ناقص نسخے گردش کرتے رہے۔ تاہم، حال ہی میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے زیتونہ کالج (کیلی فورنيا) کی جانب سے الفارابی کی … Read the rest
عقل، تخیل اور ہمارا فکری بحران: آرکون اور الجابری کا ایک تقابلی جائزہ
ہمارے معاصر فکری منظرنامے میں دو نام ایسے ہیں جن کے بغیر جدید عرب اسلامی فکر کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی، ایک محمد عابد الجابری اور دوسرے محمد آرکون۔ یہ دونوں مفکرین اگرچہ ایک ہی مسئلے کا حل تلاش کر رہے تھے یعنی ”عرب اسلامی عقل کی تنقید اور تشکیلِ نو“ مگر ان کے راستے، ان کے اوزار اور … Read the rest
